Posts

Mere Gaaon Main Mujhy

 میرے گائوں میں مجھے دیکھنے آیا ہوگا  سیر کرنے تو کاغان بھی جا سکتا تھا۔۔۔!! بات سن کر جو گیا ہے تو یہی پیار ہے نا ورنہ وہ بات کے دوران بھی جا سکتا تھا #Haafi❤

Mushaad

Image
 ‎مرشد پلیز آج مجھے وقت دیجئے ‎مرشد میں آج آپ کو دکھڑے سناؤں گا ‎مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا ‎مرشد ہمارے دیس میں اک جنگ چھڑ گئی ‎مرشد سبھی شریف شرافت سے مر گئے ‎مرشد ہمارے زہن گرفتار ہو گئے ‎مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہو گئی ‎مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے ‎مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی ‎مرشد بہت سے مار کے ہم خود بھی مر گئے ‎مرشد ہمیں زرہ نہیں تلوار دی گئی ‎مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے ‎مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی ‎مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا ‎مرشد وہ ایک شخص بھی تقدیر لے اڑی ‎مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا ‎افسوس اب یقین بھی اندھا نہیں رہا ‎مرشد محبتوں کے نتائج کہاں گئے ‎مرشد مری تو زندگی برباد ہو گئی ‎مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا ‎مرشد کوں آکھیں آ کے ساڈا حال ڈیکھ ونج ‎مرشد ہمارا کوئی نہیں ، ایک آپ ہیں ‎یہ میں بھی جانتا ہوں کہ اچھا نہیں ہوا ‎مرشد ! میں جل رہا ہوں ، ہوائیں نہ دیجیے ‎مرشد ! ازالہ کیجے ، دعائیں نہ دیجیے

Koi Or Sahara Na Mile

 اس سے پہلے کہ تجھے اور سہارا نہ ملے میں تیرے ساتھ ہوں جب تک میرے جیسا نہ ملے کم سے کم بدلے میں جنت اسے دے دی جائے جس محبت کے گرفتار کو صحرا نہ ملے مجھ کو اک رنگ عطا کر تاکہ پہچان رھے کل کلاں یہ نہ ہو تجھ کو میرا چہرہ نہ ملے لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ برے آدمی ہیں لوگ بھی ایسے جنہوں نے ہمیں دیکھا؛ نہ ملے بس یہی کہ کے اسے میں نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہیں مل جائے تو روتا نہ ملے تم دعا کرتے رہو میرا سفر اچھا رہے کوئ مل جائے مگر عقل کا اندھا نہ ملے مجھ کو دیکھا تو مجھے ایسے لپٹ کر روئ جیسے اک ماں کو کوئ گمشدہ بچہ نہ ملے بددعا ہے کہ وہاں آئیں جہاں بیٹھتے تھے اور  #افکار وہاں آپ کو بیٹھا نہ ملے                                                    #مرشد_افکار_علوی

Pahly Uski Khushboo Khud Par Taari Ki

میں نے پہلے اس کی خوشبو خود پر تاری کی پھر میں نے اس پھول سے ملنے کی تیاری کی اتنا دکھ تھا مجھے تیرے لوٹ کے جانے کا کہ میں نے گھر کے دروازوں سے بھی منہ ماری کی

Ghalat Nikly Sab

Image
غلط نکلے سب اندازے ہمارے کہ دن آئے نہیں اچھے ہمارے سفر سے باز رہنے کو کہا ہے کسی نے کھول کر تسمے ہمارے ہر اک موسم بہت اندر تک آیا کُھلے رہتے تھے دروازے ہمارے اگر ہم پر یقیں آتا نہیں تو کہیں لگوا لو انگوٹھے ہمارے بشارت دی ہے آزادی کی اُس نے ہوا میں پھینک کر پبجرے ہمارے اُس ابر ِ مہرباں سے کیا شکایت اگر برتن نہیں بھرتے ہمارے مہینے بعد بیٹی سے ملا ہوں ہمیں لے دے گئے جھگڑے ہمارے تہذیب حافی Ghalat niklay sab andazay hamaray Keh din aay nahi achay hamaray Safar se baaz rehnay ko kaha hai Kisi ne khol kar tasmay hamaray Har ik mosam bahot andar tak aya Khulay rehtay thay darwazay hamaray Agar ham Par yakeen ata nahi tu Kaheen lagwa Lo angothay hamray Basharat di hai aazadi ki us ne Hawa me phenk kar pinjray hamaray Us abr e mehrban se kia shikayat Agar bartan nahi bhartay hamaray Maheenay baad beti se Mila Hon Hamen le De gay jhagray hamaray Tehzeeb Haafi

Badnaam Mere Pyaar Ka

Image
بدنام میرے پیار کا افسانہ ہوا ہے دیوانے بھی کہتے ہیں کہ دیوانہ ہوا ہے رشتہ تھا تبھی تو کسی بے درد نے توڑا اپنا تھا تبھی تو کوئی بیگانہ ہوا ہے بادل کی طرح آ کے برس جائیے اِک دن دل آپ کے ہوتے ہوئے ویرانہ ہوا ہے بجتے ہیں خیالوں میں تیری یاد کے گھنگرو کچھ دن سے میرا گھر بھی پری خانہ ہوا ہے موسم نے بنایا ہے نگاہوں کو شرابی جس پھول کو دیکھوں وہی پیمانہ ہوا ہے

Raqs Karta Hai

Image
ﻋـﺒﺎﺩﺕ ﮐــﮯ ﻟﺌــﮯ ﺟﺐ ﺟــﺴﻢِ ﺍﻃﮩﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺟـﺒﯿﻦِ ﻋﺸـﻖ ﺟﮭﮑﺘﯽ ﮬــﮯ ﺗﻮ ﻣﻨﺒـﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ، ﻋـﯿﺎﮞ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺭﻧﮓ ﻭﺣﺪﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺎ ﺍﻟـﺤــﻖ ﮐﯽ ﺻــﺪﺍ ﭘﺮ ﺟﺐ ﻗـﻠـــﻨـﺪﺭ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ، ﺳﮑـــﻨﺪﺭ ﺧﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﺩﻭﻟﺖ ﺯﻣﺎﻧـﮯ ﮐﯽ ﻗـﻠــــﻨـﺪﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭـﻮﮞ ﺳـﮯ ﻟـﭩﺎ ﮐـﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ، ﺳـﻮﺍ ﺗﯿـــﺮﮮ ﮐﺴﯽ ﺷـﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﯾﮧ ﮐﯿـﺴـﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮬـــــﮯ ﮐﮧ ﻣـﻘــــﺪﺭ ﺭﻗﺺ ﮐـﺮﺗﺎ ﮬـﮯ ، ﺯﻣﺎﻧـــﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮪﻮﮞ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻢِ ﺷــﺒﯿﺮﯼ ﺗـﻮ ﻧﻮﮎِ ﺧــﻨـﺠــــﺮِ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﺳــﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟــــﻨـﻮﻥِ ﻋﺸــﻖ ﮐﯽ ﮐﯿﻔـﯿـّﺘﯿـﮟ ﮔـﻤــﻨﺎﻡ ﮬـﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣــﺮﺍ ﻧـﻐــﻤـﮧ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺷـــﮯ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﮞ ﭘﺮ ﺭﻗﺺ ﮐـﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻣـﮑﺎﮞ ﺳــﮯ ﻻﻣــﮑﺎﮞ ﺗﮏ ﺁﻥِ ﻭﺍﺣــــﺪ ﻣﯿـﮟ ﮔـﺰﺭﺗﺎ ﮪﻮﮞ ﻣـــﺮﯼ ﮨﺴﺘـﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗُـﻮ ﻧـﻮﺭ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺏِ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻧﺴﺒﺖ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺎﺋﻞؔ ﮨـﺘﮭـــﯿﻠــﯽ ﭘﺮ ﻣـﻘـــــــﺪﺭ ﮐﺎ ﺳـﮑــــﻨـﺪﺭ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨـﮯ

Halchal Kar Day

Image
منجمد خون میں ہلچل کردے مجھ کو چھو اور مکمل کردے کتنی پیاسی ہیں یہ بنجر آنکھیں ابر زادے انہیں جل تھل کر دے میں نے وہ درد چھپا رکھا ھے جو تیرے حسن کو پاگل کر دے سارے انسان ہی وحشی ھیں تو پھر اس بھرے شہر کو جنگل کر دے اے جھلستے ہوئے جسموں کے خدا جلتی دوپہر پہ بادل کر دے خوشبو آئی ھے تو لوٹے نہ کبھی اب ہوا کو بھی شل کر دے "یا مجھے وصل عطا کر مالک یا میرا ھجر مکمل کر دے۔

Boht Baizaar Lagte

Image
ﺑﮩﺖ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ ﺑﮍﮮ ﮨﻠﮑﺎﻥ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﺮﮮ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺷﮑﻮﮮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﻠﺦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﮕﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺣﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮭﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﻭﮦ ﮐﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﻓﻘﻂ ﺍُﻥ ﺗﯿﻦ ﺑﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﯼ ﺗُﻮ ﺧُﺪﺍ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﻣُﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﺑﺴﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﻨﺎ ﺳﺰﺍ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﻣُﺠﮭﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﺟﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺍﮔﺮ ﺗﻨﮩﺎ ﺳُﻠﮕﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣُﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﺗﯿﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺑﮍﺍ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺭﺷﺘﮧ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺳُﻨﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮ ﺗُﻢ ﻣِﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺗُﻢ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻮ ﺗُﻢ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻮ ﺗُﻢ

Ishq

Image
یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے قطرے میں سمندر ہے ذرّے میں بیاباں ہے اے پیکر ِمحبوبی میں کس سے تجھے دیکھوں جس نے تجھے دیکھا ہے وہ دیدۂِ حیراں ہے سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں ہے یہ حُسن کی موجیں ہیں یا جوش ِتمنا ہے اس شوخ کے ہونٹوں پر اک برق سی لرزاں ہے اصغر سے ملے لیکن اصغر کو نہیں دیکھا اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے

Aay Ibn E Adam

Image
"اے ابن آدم" ٹہر جا،سنبھل جا، رک جا،بدل جا.. ابھی وقت ہے تو جھک جا،بدل جا.. نہ بن تو کھلونا شیطان کے ہاتھوں وہ کھیلے گا،توڑے گا.. عافل سمجھ جا آسانی سے چھوڑے نہ پیچھا یہ ظالم اترنا زمیں پے تیرا امتحاں تھا.. نتیجے سے ڈر تو ڈر کے بدل جا، سب بھول جا بس منالے تو "رب" کو سجدوں میں گر اور حد سے گزر جا، اگر "وہ" نہ مانا تو یہ یاد رکھنا غارت ہے سب کچھ ادھر جا،ادھر جا

Muhabbat

Image
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں صحرا میرا چہرہ ہے سمندر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اُتَر کر تیری آنکھیں اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی شام کا منظر ، تیری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نا لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں

Salamat

Image
مسکراہٹ لبوں کی ہیمشہ رھے سلامت تو جہاں جہاں رھے ہر گھڑی سلامت میں جیوں مر کے یا مر مر کے جیوں تیری دھڑکن ' تیری ہر سانس سلامت میرا کیا میں تو ٹھہرا رنگ بدلتا موسم تیری زی روح فضا تیری بہار سلامت خاک ہوں خاکی ہی ہے فطرت میری تیری یہ جادوئی آنکھیں تیری شان سلامت ہر درد کو تیرے درد بنا لو اپنا تیری خوشیاں تیری ہر خواہش سلامت مسکراہٹ لبوں کی ہیمشہ رھے سلامت تو جہاں جہاں رھے ہر گھڑی سلامت 

Bas Kisi Aitraaz

Image
بس کسی اعتراض میں رکھ دی جاں لباس مجاز میں رکھ دی رات کھولے تھے کچھ پرانے خط پھر محبت دراز میں رکھ دی یادِ یاراں نے پھر وہ چنگاری ایک مردہ محاذ میں رکھ دی

Mil Hi Jaye Ga

Image
مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے دروبام ترے اے مکاں! بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو، لیکن عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے

NOvember

Image

Kya Karo Gay

Image
یہ مسکراتے تمام سائے، ہوئے پرائے تو کیا کرو گے ہوا نے جب بھی مرے بدن کے دِیے بجھائے تو کیا کرو گے تمہاری خواہش پہ عمر بھر کی جدائیاں بھی قبول کر لوں مگر بتاؤ ! بغیر میرے جو رہ نہ پائے تو کیا کرو گے وہ جن میں میرے عذاب تیرے، سراب اُبھرے یا خواب ڈوبے وہ سارے لمحے تمہاری جانب پلٹ کے آئے تو کیا کرو گے بغیر در کے کسی بھی گھر میں گھِرے ہوئے ہو یہ فرض کر لو اور ایسے عالم میں مِل سکے نہ جو میری رائے تو کیا کرو گے ابھی تو میرے غلاف ہاتھوں میں مطمئن ہیں پہ بعد میرے جو آندھیوں میں چراغ اپنے یہ تھرتھرائے تو کیا کرو گے تمہاری آنکھوں میں عکس میرا اگر نہ ہو گا تو کیسا ہو گا سماعتوں کے شجر پہ پنچھی نہ چہچہائے تو کیا کرو گے کرو گے کیا جو مرے بدن سے دھویں کی اِک دِن لکیر اُٹھی لکیر سے پھر ہزار چہرے نکل کے آئے تو کیا کرو گے وہ جن خیالوں میں رہ کے تم سے مری بھی پہچان کھو گئی ہے انہی خیالوں کے سب مسافر ہوئے پرائے تو کیا کرو گے یہ سوچتے ہو چلا گیا وہ تو چھت پہ جاؤ گے کس لیے تم کہ اب کے ساون کی بارشوں میں جو سب نہائے تو کیا کرو گے ہے دسترس میں ابھی بھی طاہر اُٹھا کے اب اس کو پی بھی ڈا...

Ye Na Thi Hamari KIsmat

Image
مرزا اسداللہ خاں غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

Paish Karti Hai

Image
پیش کرتی ہے عجب حسن کا معیار غزل لے اُڑی ہے ترا لہجہ، تری گُفتار غزل دو دھڑکتے ہوئے دل یوں دھڑک اُٹھّے اک ساتھ جیسے مِل جُل کے بنا دیتے ہیں اشعار غزل کوئی شیریں سخن آیا بھی، گیا بھی لیکن گنگناتے ہیں ابھی تک در و دیوار غزل میں تو آیا تھا یہاں چَین کی سانسیں لینے چھیڑ دی کس نے سرِ دامنِ کہسار غزل مریمِ شعر پہ ہیں اہلِ ہوَس کی نظریں فتنۂ وقت سے ہے بر سرِ پیکار غزل تو نے خط میں مجھے "سرکارِ غزل" لکھا ہے تجھ پہ سو بار نچھاور مری سرکار، غزل گھر کے بھیدی نے تو ڈھائی ہے قیامت شبنم کر گئی ہے مجھے رسوا سرِ بازار غزل

Aks Ki Tarha

Image
اُبھَروں مَیں تیرے ہونٹوں پہ لَمس کی طَرح، اُتروں مَیں تیری آنکھوں میں عَکس کی طَرح، بِکھَروں میں تیرے سِینے پہ ریشَم کی طَرح، سِمَٹ جاؤں تیری بانہوں میں آنچَل کی طَرح، بَس جاؤں تیری سانسوں میں خوشبُو کی طَرح، لِپٹوں مَیں تیرے پَیروں سے پایَل کی طَرح، یہ خَیال میرے دِل کا اَرمان بَن گَیا، وُہ جان کَر بھی پھِر سے اَنجان بَن گَیا...!